ننھا خرگوش اور شیر
جنگل میں ایک ننھا خرگوش رہتا تھا۔ وہ بہت چالاک اور ہوشیار تھا، لیکن جسمانی طور پر کمزور تھا۔ جنگل میں ایک خونخوار شیر بھی رہتا تھا جو روز کسی نہ کسی جانور کا شکار کرتا۔ تمام جانور اس سے بہت ڈرتے تھے۔
ایک دن، جنگل کے تمام جانوروں نے فیصلہ کیا کہ ہر روز ایک جانور اپنی مرضی سے شیر کے پاس جائے گا تاکہ وہ باقی جانوروں کو تنگ نہ کرے۔ اس پر سب جانور متفق ہوگئے۔
کئی دنوں تک ایسا ہی چلتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن ننھے خرگوش کی باری آگئی۔ خرگوش نے سوچا، اگر میں سیدھا شیر کے پاس جاؤں گا تو وہ مجھے کھا لے گا۔ کیوں نہ کچھ چالاکی دکھاؤں؟
وہ جان بوجھ کر دیر سے چلا اور راستے میں ایک کنویں کے قریب رک گیا۔ جب وہ آخرکار شیر کے پاس پہنچا تو شیر نے غصے سے دھاڑ کر کہا تم اتنی دیر سے کیوں آئے؟ ننھے خرگوش نے ڈرتے ہوئے کہا، جناب! میں وقت پر آ رہا تھا، لیکن راستے میں مجھے ایک اور شیر مل گیا جو کہہ رہا تھا کہ وہی جنگل کا بادشاہ ہے۔ اس نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن میں کسی طرح بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں۔
شیر غصے سے دھاڑنے لگا، دوسرا شیر؟ کہاں ہے وہ؟ مجھے ابھی لے چلوننھا خرگوش شیر کو کنویں کے پاس لے آیا اور کہا، وہ شیر یہاں چھپا ہوا ہے۔
شیر نے غصے میں کنویں میں جھانکا تو اسے اپنی ہی تصویر پانی میں نظر آئی۔ اسے لگا کہ واقعی کوئی دوسرا شیر ہے۔ اس نے زور سے دھاڑ کر پانی میں چھلانگ لگا دی اور سیدھا کنویں میں جا گرا۔
یوں ننھے خرگوش نے اپنی چالاکی سے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ جنگل کے دوسرے جانوروں کو بھی ایک ظالم شیر سے نجات دلائی۔
سبق
عقل اور سمجھداری سے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔