ننھا سیب اور بڑی دنیا
باغ میں ایک چھوٹا سا سیب کا درخت تھا، جس پر بہت سے خوبصورت سیب لگے ہوئے تھے۔ انہی میں ایک ننھا سیب بھی تھا جو ابھی مکمل طور پر پک نہیں پایا تھا۔ وہ ہمیشہ درخت پر جھولتے ہوئے سوچتا، یہ دنیا کتنی بڑی ہوگی؟ میں بھی اس دنیا کو دیکھنا چاہتا ہوں
ایک دن، ہوا تیز چلنے لگی اور ننھا سیب اپنی شاخ سے ٹوٹ کر زمین پر گر گیا۔ وہ پہلے تو ڈر گیا، لیکن پھر خوشی سے اچھلنے لگا، اب میں اس دنیا کی سیر کروں گا
قریب ہی ایک گلہری بیٹھی تھی۔ اس نے ننھے سیب کو دیکھ کر کہا، تم بہت پیارے ہو! میں تمہیں اپنے بل میں لے جا کر کھا لوں؟
ننھے سیب نے جلدی سے کہا، نہیں، نہیں! میں دنیا دیکھنے نکلا ہوں۔ کیا تم مجھے دنیا کے بارے میں بتا سکتی ہو؟
گلہری ہنس کر بولی، دنیا بہت بڑی ہے! پہاڑ، دریا، جنگل، اور بہت کچھ! اگر تم دیکھنا چاہتے ہو تو آگے بڑھو۔
ننھا سیب خوش ہو کر لڑھکتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ راستے میں ایک ندی آئی۔ ندی نے پوچھا، کہاں جا رہے ہو ننھے سیب؟
سیب نے جواب دیا، میں دنیا دیکھنا چاہتا ہوں
ندی مسکرا کر بولی، اچھا! تو میرے ساتھ بہو، میں تمہیں اپنے پانی کے ساتھ بہا کر دور لے جا سکتی ہوں۔ننھا سیب ندی میں گر گیا اور بہنے لگا۔ اس نے راستے میں رنگ برنگی مچھلیاں دیکھیں، پانی کے کنارے چہچہاتے پرندے دیکھے اور نئی نئی چیزوں کے بارے میں جانا۔ آخرکار، ایک کسان نے اسے پانی سے نکالا اور اپنے باغ میں لے گیا۔
کسان نے ننھے سیب کو کھانے کے بجائے زمین میں دبا دیا۔ کچھ دن بعد، وہاں سے ایک ننھا پودا نکل آیا۔ سیب اب ایک درخت بننے لگا تھا، جو جلد ہی اور بھی بہت سے سیب پیدا کرے گا۔
سبق
ہر مشکل ایک نیا موقع لے کر آتی ہے، اگر ہم ہمت نہ ہاریں تو ہم کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں