kahani reat ka shahir (ریت کا شہر)

ریت کا شہر

 

صحرا کے بیچ ایک شہر آباد تھا جو مکمل طور پر ریت سے بنا ہوا تھا—گھر، سڑکیں، حتیٰ کہ خواب بھی۔ یہاں کے لوگ ہر صبح دیواریں اونچی کرتے، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کوئی ان کا شہر چھین نہ لے۔

نایاب اس شہر کا واحد شخص تھا جو دیواریں نہیں بناتا تھا۔ وہ کنویں کھودتا تھا۔

!لوگ ہنستے
“!ریت میں پانی؟ یہ دیوانگی ہے”

مگر نایاب جانتا تھا کہ ریت کے نیچے نمی چھپی ہوتی ہے۔ برسوں کی خاموش محنت کے بعد ایک دن پانی نکل آیا۔ وہی لوگ جو دیواروں میں قید تھے، پیاسے ہو کر نایاب کے کنویں پر آئے۔

شہر بدلنے لگا۔ دیواریں گِرنے لگیں، راستے کھلنے لگے۔

ایک طوفان آیا۔ جن گھروں نے صرف دیواروں پر بھروسا کیا تھا وہ بکھر گئے، مگر کنویں باقی رہے۔

نایاب مسکرایا—اسے معلوم تھا کہ اصل حفاظت اونچائی میں نہیں، گہرائی میں ہوتی ہے۔

:پیغام

جو لوگ بنیاد مضبوط کرتے ہیں، وہی طوفانوں میں باقی رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *