kahani akhri seerhi (آخری سیڑھی)

آخری سیڑھی

عمارت کی چھت تک پہنچنے کے لیے سو سیڑھیاں تھیں، مگر ریحان ہر بار ننانوے پر رک جاتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ آخری سیڑھی ٹوٹ جائے گی۔

وہ ایک بہترین آرکیٹیکٹ تھا، مگر فیصلے نہیں کر پاتا تھا۔ ہر منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دیتا۔

:ایک دن اسے ایک پُرانی عمارت کی مرمت کا کام ملا۔ وہاں ایک زنگ آلود سیڑھی تھی جس پر لکھا تھا
“جو ڈرے، وہ یہیں رُکے۔”

ریحان کئی دن تک اسی سیڑھی کو گھورتا رہا۔ پھر ایک صبح اُس نے قدم رکھ دیا۔

سیڑھی نہیں ٹوٹی۔

چھت پر پہنچ کر اُس نے شہر کو پہلی بار پورا دیکھا—بغیر خوف کے۔

اس دن کے بعد ریحان نے ہر منصوبہ آخری قدم تک مکمل کیا۔

وہ سمجھ گیا تھا کہ اکثر ٹوٹی ہوئی سیڑھیاں حقیقت میں نہیں—صرف ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں۔

:پیغام

خوف کو آخری قدم تک لے جانا ہی آزادی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *