نیلے خط
ماہین کو نیلا رنگ بہت پسند تھا۔ اسی لیے وہ ہر خط نیلے لفافے میں لکھتی۔ یہ خط کسی کو نہیں—خود کو لکھے جاتے تھے۔
وہ شہر کی ایک لائبریری میں کام کرتی تھی۔ کتابوں کے درمیان وہ اپنے خواب چھپا لیتی۔ اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک خود پر یقین نہیں آئے گا، کسی کو اپنے لفظ نہیں سنائے گی۔
ایک دن لائبریری میں ایک پرانا نیلا لفافہ ملا—اس پر اسی کی تحریر تھی، مگر تاریخ دس سال پرانی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔
:اس میں لکھا تھا
“اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو، تو ہمت مت ہارنا۔ تم لکھنے کے لیے بنی ہو۔”
ماہین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے اسی دن اپنا پہلا مضمون ایک رسالے کو بھیجا۔
کچھ مہینوں بعد، رسالے میں اُس کا نام چھپا تھا—نیلے حروف میں۔
:اس نے آخری نیلا خط لکھا
“میں نے خود پر یقین کر لیا ہے۔”
:پیغام
اندر کی آواز کو سن لینا ہی اصل کامیابی کی شروعات ہے۔