ٹوٹی گھڑی
:اسلم کے پاس ایک پُرانی گھڑی تھی جو کبھی ٹھیک وقت نہیں بتاتی تھی۔ لوگ ہنستے اور کہتے
“ایسی گھڑی رکھنے کا کیا فائدہ؟”
مگر اسلم جانتا تھا کہ یہ گھڑی اس کے والد کی آخری نشانی ہے۔
اسلم ایک چھوٹے سے قصبے میں گھڑی سازی کرتا تھا۔ دن بھر وہ دوسروں کی گھڑیاں ٹھیک کرتا، مگر اپنی گھڑی کبھی نہ بنواتا۔ وقت جیسے اس کے لیے رُک گیا تھا—وہ ماضی میں ہی جیتا تھا۔
:ایک دن ایک اجنبی عورت اپنی گھڑی لے کر آئی۔ اس کی آنکھوں میں جلدی تھی
“یہ گھڑی آج ہی ٹھیک ہو سکتی ہے؟”
اسلم نے گھڑی دیکھی—یہ وہی ماڈل تھا جو اس کے والد بناتے تھے۔ اس کی انگلیاں کانپ گئیں۔ اُس نے پہلی بار اپنی ٹوٹی گھڑی کھولی اور دونوں گھڑیوں کے پرزے ملا کر کام کیا۔
شام تک دونوں گھڑیاں چلنے لگیں۔
اسلم نے محسوس کیا کہ وقت اصل میں ٹوٹا نہیں تھا—وہ خود رُکا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی گھڑی کلائی پر باندھی اور دکان سے باہر نکلا۔
اس رات، قصبے کی گھڑیال نے درست وقت بتایا۔
:پیغام
ماضی کی یادیں قید نہیں، رہنمائی ہوتی ہیں—اگر ہم آگے بڑھنا چاہیں۔