روشنی کا سفر
اندھیری رات کا آخری پہر تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور گلیوں میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ اسی خاموشی میں ایک ننھی سی روشنی نے جنم لیا۔ وہ روشنی کمزور ضرور تھی، مگر اس کے اندر آگے بڑھنے کی طاقت موجود تھی۔
یہ روشنی ایک ایسے دل میں پیدا ہوئی تھی جو مایوسی سے بھرا ہوا تھا۔ زندگی کے دکھ، ناکامیاں اور تلخ تجربات اس دل کو اندھیروں میں دھکیل چکے تھے۔ مگر اس دل نے ہار ماننے کے بجائے امید کو تھام لیا، اور یہی امید روشنی بن کر چمکنے لگی۔
روشنی نے سفر شروع کیا۔ راستے میں اسے گھنے اندھیرے ملے، طوفانی ہوائیں آئیں اور کئی بار ایسا لگا کہ وہ بجھ جائے گی۔ لیکن ہر مشکل کے بعد وہ پہلے سے زیادہ روشن ہو جاتی۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اندھیرا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔
سفر کے دوران روشنی نے دوسروں کو بھی جگانا شروع کیا۔ جو دل خوف میں قید تھے، وہ اس کی کرن دیکھ کر مسکرانے لگے۔ جو راستہ بھول چکے تھے، انہیں منزل کا پتا ملنے لگا۔ ایک چھوٹی سی روشنی کئی دلوں کی امید بن گئی۔
آخرکار وہ لمحہ آیا جب رات ختم ہونے لگی۔ مشرق کی سمت ہلکی سی سفیدی نمودار ہوئی۔ روشنی نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔ اب وہ اکیلی نہیں تھی، سورج طلوع ہونے والا تھا۔
:روشنی نے اپنا سفر مکمل کیا، مگر اس کا پیغام باقی رہا
اگر دل میں امید زندہ ہو تو اندھیرے خود راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔
سبق
جو شخص خود پر یقین رکھتا ہے، وہ اندھیروں میں بھی راستہ تلاش کر لیتا ہے۔