شاہین کی اڑان
ایک پہاڑی علاقے میں ایک کسان رہتا تھا۔ ایک دن اسے جنگل میں ایک عقاب (شاہین) کا انڈہ ملا۔ کسان نے سوچا، یہ انڈہ بہت خوبصورت ہے، میں اسے اپنے مرغیوں کے ساتھ رکھ دیتا ہوں۔
اس نے انڈے کو اپنے مرغی کے گھونسلے میں رکھ دیا، جہاں کچھ دنوں بعد وہ انڈہ پھوٹا اور اس میں سے ایک ننھا سا شاہین نکلا۔ چونکہ اس نے آنکھ کھولتے ہی مرغیوں کو دیکھا تھا، اس لیے وہ خود کو بھی ایک مرغی سمجھنے لگا۔
وہ دوسرے چوزوں کے ساتھ زمین پر دانہ چگتا، چھوٹے چھوٹے پروں سے پھدکتا، اور کبھی کبھار اپنی چونچ سے زمین کھودنے کی کوشش کرتا۔ وہ کبھی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک عظیم پرندہ ہے، جس کی قسمت آسمان میں بلند پرواز کرنا ہے۔
ایک دن، ایک بزرگ شخص اس کسان کے گھر آیا اور اس نے شاہین کو مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا۔ وہ حیران ہوا اور کسان سے بولا، یہ ایک شاہین ہے، مرغی نہیں! اسے آسمان میں اڑنا چاہیے، زمین پر چلنا نہیں
کسان ہنس کر بولا، یہ بچپن سے مرغیوں میں پلا بڑھا ہے، اب یہ کبھی نہیں اڑے گا
بزرگ نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہین کو اس کی حقیقت سے روشناس کرائے گا۔ وہ اسے ایک اونچی دیوار پر لے گیا اور کہا، اڑو! تم ایک شاہین ہو، آسمان تمہاری منزل ہے
لیکن ننھے شاہین نے نیچے زمین کی طرف دیکھا، جہاں باقی مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں۔ وہ ڈر گیا اور نیچے کود گیا۔ بزرگ نے افسوس سے سر ہلایا اور سوچا، یہ ابھی نہیں سمجھا، لیکن میں ہار نہیں مانوں گا
اگلے دن، وہ شاہین کو ایک اونچے درخت پر لے گیا اور دوبارہ کہا، اڑو! تم آسمان کے بادشاہ ہو
لیکن شاہین نے ایک بار پھر نیچے دیکھا اور ڈر کر درخت سے کود کر نیچے آ گیا۔ بزرگ نے ایک گہری سانس لی اور کہا، آخری بار کوشش کرنی ہوگی
تیسرے دن، وہ شاہین کو ایک بہت بلند پہاڑ پر لے گیا۔ وہاں سے نیچے صرف کھائی نظر آ رہی تھی، کوئی زمین نہیں۔ بزرگ نے نرمی سے کہا، اب تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو گر کر ختم ہو جاؤ، یا اپنی حقیقت کو پہچانو اور اڑو شاہین خوفزدہ ہوا، لیکن جیسے ہی اس نے نیچے کھائی دیکھی، اس کے اندر کچھ جاگ اٹھا۔ اچانک، اس نے اپنے بڑے پر پھیلائے اور ایک زبردست جھٹکے سے اڑنا شروع کر دیا! وہ آسمان کی وسعت میں بلند سے بلند تر ہوتا گیا، یہاں تک کہ وہ بادلوں میں غائب ہو گیا۔
بزرگ مسکرا کر بولا، ہر کوئی اپنی حقیقت کو پہچانے تو اس کی پرواز بلند ہو سکتی ہے
سبق
ہر شخص میں قابلیت موجود ہوتی ہے، بس خود پر یقین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے