خاموش چراغ
شہر کے ایک پُرانے محلے میں ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس کی کھڑکی میں ہر رات ایک مدھم سا چراغ جلتا رہتا۔ لوگ اُسے معمولی بات سمجھتے تھے، مگر اس چراغ کے پیچھے ایک خاموش کہانی چھپی تھی۔
اس مکان میں زینب رہتی تھی—ایک سنجیدہ، کم گو مگر گہری سوچ رکھنے والی لڑکی۔ اس کے والد کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا تھا اور ماں بیماری کے باعث بستر سے لگی رہتی تھیں۔ زینب دن میں ایک اسکول میں پڑھاتی اور رات کو ماں کی تیمارداری کرتی۔ اس کی زندگی سادہ تھی، مگر خواب بہت بڑے تھے۔
اسی محلے میں حمزہ آیا—ایک نوجوان صحافی، جو شہر کی ہلچل سے تنگ آ کر یہاں کرائے پر رہنے لگا۔ اسے کہانیاں ڈھونڈنے کا شوق تھا، مگر زندگی نے اس کا یقین چھین لیا تھا۔ وہ ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا تھا۔
ایک رات حمزہ کی نظر اُس جلتے چراغ پر پڑی۔ تجسس نے اسے مجبور کیا۔ اگلے دن اس نے زینب سے بات کی۔ آہستہ آہستہ گفتگو بڑھی۔ حمزہ کو معلوم ہوا کہ زینب اپنے والد کی ڈائری پڑھ کر چراغ جلاتی ہے—یہ اس کا وعدہ تھا کہ وہ اندھیروں میں بھی روشنی بانٹے گی۔
دن گزرتے گئے۔ حمزہ نے زینب کی زندگی کو قریب سے دیکھا—بغیر شکایت کے محنت، بغیر دکھاوے کے خدمت، اور بغیر کسی امید کے اچھائی۔ اس کا کھویا ہوا یقین واپس آنے لگا۔
ایک دن محلے پر مشکل آن پڑی۔ بلڈرز نے پرانے گھروں کو گرانے کا نوٹس دے دیا۔ لوگ گھبرا گئے۔ زینب خاموش رہی، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے دستاویزات جمع کیں، محلے والوں کو جوڑا، اور حمزہ نے اپنی صحافتی طاقت سے آواز بلند کی۔
کئی ہفتوں کی جدوجہد کے بعد محلہ بچ گیا۔
:اس رات چراغ پہلے سے زیادہ روشن تھا۔ حمزہ نے کہا
“یہ چراغ صرف کھڑکی میں نہیں، میرے اندر بھی جل اٹھا ہے۔”
زینب مسکرائی۔ وہ جانتی تھی کہ اصل روشنی لفظوں میں نہیں، عمل میں ہوتی ہے۔
چراغ جلتا رہا—خاموش، مگر طاقتور۔
:اخلاقی سبق
سچی نیت، خاموش محنت اور امید کی روشنی بڑے اندھیروں کو بھی شکست دے سکتی ہے۔